ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حیدرآباد بم دھماکہ معاملہ:2؍ ملزمین باعزت بری، دو قصور وار قرار

حیدرآباد بم دھماکہ معاملہ:2؍ ملزمین باعزت بری، دو قصور وار قرار

Wed, 05 Sep 2018 11:03:41    S.O. News Service

ممبئی،5؍ستمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) سال 2007ء میں حیدرآباد کے لمبنی پارک، دلسکھ نگر اور گوکل چاٹ مقامات پر ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکہ کی معاملے آج خصوصی عدالت نے فیصلہ صادر کرتے ہو ئے چار ملزمین میں سے ایک جانب جہاں دو ملزمین کو باعزت بری کردیا وہیں دو ملزمین کو قصور وار ٹہرایا ہے اور ان کی سزاء کے تعین کے لیئے ۱۰؍ ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

اس معاملے میں ماخوذ ملزمین محمد اکبر اسماعیل چودھری، عنیق شفیق سید، فاروق شرف الدین ترکش اور محمد صادق اسرار شیخ کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے اور ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ محمد عبدالعظیم ، ایڈوکیٹ خالد سیف اللہ، ایڈوکیٹ گرو مورتھی،ایڈوکیٹ راجو ریڈی، ایڈوکیٹ محمد عمران، ایڈوکیٹ محمد رضا خلیل و دیگر کو مقرر کیا گیا ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

گلزار اعظمی نے بتایا چراپلی سینٹرل جیل میں قائم خصوصی عدالت کے جج شرینواس نے ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیادوں پر ملزمین فاروق شرف الدین ترکش اور صادق اسرار شیخ کو دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کردیا وہیں ملزمین محمد اکبر اسماعیل چودھری اور عنیق شفیق سیدکو قصوروار ٹہرایا ہے ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے میں تحقیقاتی دستوں نے ملزمین کو انڈین مجاہد ین نامی تنظیم کا رکن بتایا تھا اور تین علیحدہ علیحدہ چارج شیٹ داخل کی تھی جبکہ ایک دیگر ملزم طارق انجم کو متذکرہ ملزمین کو دہلی میں رہائش مہیا کرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے خلاف علیحدہ مقدمہ چلا یا گیاجس کا فیصلہ ۱۰؍ ستمبر کو دیا جائے گا۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ 10؍ ستمبر کو دفاعی وکلاء خصوصی عدالت سے ملزمین کو کم سے کم سزاء دیئے جا نے کی درخواست کریں گے اور مکمل فیصلہ آجانے کے بعد سینئر وکلاء سے صلاح ومشورہ کرکے اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 11؍سال پہلے حیدرآباد کے گوکل چاٹ بھنڈار اور لمبنی پارک میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جس کے بعد تلنگانہ پولس کے کاؤنٹر انٹلی جینس شعبہ نے اس معاملے کی تحقیقات کی تھی نیز دوران سماعت 170؍ سرکاری گواہوں نے ملزمین کے خلاف عدالت میں گواہی دی تھی جبکہ سیکڑوں دستاویزات کو استغاثہ نے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا تھا جبکہ دفاعی وکلاء نے گواہوں سے جرح کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت میں ملزمین کے دفاع میں حتمی تحریری بحث بھی داخل کی تھی۔

ان دونوں جگہوں پر رونما ہونے والے بم دھماکوں میں کل 42؍ افراد ہلاک اور 50؍ دیگر زخمی ہو ئے تھے۔


Share: